URDU STORIES:

اردو ادب اور کہانیوں میں خوش آمدید ۞ قصہ کہانیاں ۞ غزلیں ۞ نظمیں ۞ واقعات ۞ طنزومزاح ۞ لاہور کی پنجابی۞ کچھ حقیقت کچھ افسانہ ۞ پراسرار خواب والی ٹیکنالوجی ۞ میری فیملی کا ذاتی شجرہ نسب سن 1790ء تا 2023ء۔ ۞ قومی پیمانہ ۞ تباہی و زلزلے ۞ دو سو سالہ کیلینڈر ۞ اردو سافٹ وئیر ڈاؤنلوڈ ۞۔

KOH I HINDUKUSH KE PAHARI SILSLEY - خوبصورت لڑکے اور کوہِ ہندوکُش کے پہاڑی سلسلے

 




خُوبصورت لڑکے اور کوہِ ہندوکُش کے پہاڑی سلسلے

...


...................................


تعارف:


برِصغیر سے افغانستان خوبصورت لڑکے اور لڑکیوں کو اسمگل کرکے بیچنے والے سلسلے دراصل بہت پرانے ہیں لیکن ان کی تاریخ شاید کسی کو بھی معلوم نہیں۔ یہ افغانی روایات صدیوں پرانی ہیں۔ افغانستان شروع سے ہی ناپاک ذہنیت کے لوگوں کا مُلک رہا ہے۔ آئیے اس کاروبار کے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں:-


واقعہ:

قارئین پاک افغان سرحد کے قریب برفانی پہاڑی سلسلے کو کوہِ ہندوکش کہتے ہیں۔ انگلش مورحقین اسے ہندو کلر ماؤنٹین
 
HINDU KILLER MOUNTAIN

کہتے ہیں۔


فارسی میں اسے کوہِ ہندوکش کہا جاتا ہے یعنی ہندوؤں کو مارنے والا پہاڑ۔ دراصل یہاں پر دو لاکھ خوبصورت پنجابی لڑکوں کی ہـــلاکت ہوئی تھی۔ ان دولاکھ پنجابی لڑکوں میں زیادہ تر تعداد  گجرات، سرگودھا اور گوجرانوالہ کے لڑکوں کی تھی، جن کو افغانستان لے جایا جارہا تھا، تاکہ وہاں پہ انہیں بیچا جاسکے۔ قارئین، ماضی میں دریائے اٹک سے پار کے تمام علاقے کی آبادی کو ہندو کہا جاتا تھا اور یہ مذہبی طرز نہیں تھی۔ ہندو کا مطلب انڈین تھا۔ فارسی زبان میں ہندو کا مطلب ہے انڈین۔ وہ  ہندو بھی ہوسکتا ہے، سکھ بھی ہوسکتا ہے، عیسائی بھی ہوسکتا ہے اور مسلمان بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ عرب ممالک میں انڈین کو ہندی کہا جاتا ہے، ایسے ہی فارسی زبان میں انڈین کو ہندو کہا جاتا ہے۔ اس میں تمام مذاہب کے لوگ آجاتے تھے۔۔۔ تو قارئین دریائے اٹک کے اس پار کی ساری آبادی کو ہندو کہا جاتا تھا۔ افغان طغلق خاندان نے بھارت پر قبضہ کرلیا۔ اس سے پہلے بھارت پر افغانی ہندی خاندان کی حکومت تھی۔ جب طغلق خاندان نے بھارت پہ قبضہ کیا تو طُغلق دور میں پنجاب سے ہزاروں خـــوبصورت لڑکے اغواء کرکے افغانستان لے جا کر بیچے جاتے تھے۔


بھارت میں یہ مانا جاتا تھا کہ پنجاب کے لڑکے سب سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ پنجاب کو مغربی ہندوستان کہا جاتا تھا۔ یہاں کی آب و ہوا میں نمی کا تناسب بہت کم ہوتا ہے اس وجہ سے یہاں کے لوگوں کی اسکن مشرقی ہندوستان کی نسبت صاف ہوتی ہے۔ جیسے جیسے ہم مغربی ہند کی جانب بڑھتے جائیں اسکن کا رنگ صاف ہوتا جاتا ہے۔ آپ نے خیبر پختونخوا کے لوگوں کا رنگ روپ تو دیکھا ہوگا۔ اگر ہم سمندر میں جائیں تو مچھیروں کا رنگ روپ شدید نمی اور حبس کی وجہ سے سیاہ ہوتا ہے۔ اسکن خراب ہوجاتی ہے۔ ویسے تو حُسن افریقہ کے سیاہ فام لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ بھارت کے جو افغان طغلق خاندان تھے وہ اپنے سپاہیوں کے ذریعے پنجاب سے خوبصورت لڑکوں کو اغواء کروا لیا کرتے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں لے جاکر افغانستان بیچا کرتے تھے۔ اسی سلسلے کے ایک افغانی طغلق خاندان سلطان عادل بن طغلق نے سن 1325ء سے سن 1354ء کے درمیان میں لاکھوں خوبصورت اور حسین لڑکوں کو اپنے سپاہیوں کے ذریعے پنجاب سے اغواء کروا لیا۔

سلطان بن عادل طغلق نے پیسے بنانے کےلیے دو لاکھ لڑکوں کو افغانستان بیچنے کا سوچا اور پنجاب سے دو لاکھ پنجابی لڑکوں کو اغواء کروا لیا ۔ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ افغانیوں کی سوچ انتہائی گھٹیا طرز کی ہوتی ہے وہ اس دور میں بھی ویسی ہی تھی۔ بھاری رقم کمانے کی لالچ میں ان خوبصورت کم عمر  نوجوان حسین لڑکوں کو افغانستان لے جاکر بیچا جانا تھا۔ ان کو جنوری کے مہینے میں افغانستان بیچا جا رہا تھا۔ پنجاب کے یہ حسین لڑکے سرد موسم کے عادی نہیں تھے۔ ان لڑکوں کی زیادہ تعداد سرگودھا، گجرات اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھتی تھی۔ ان کو جب افغانستان لے جایا جارہا تھا اور جب یہ پہاڑی سلسلے میں پہنچے تو غیر متوقع طور پر برفانی طوفان نے ان کو آن گھیرا اور پنجاب کے گرم علاقوں کے رہنے والےیہ لڑکے سخت برفانی طوفان کو برداشت نہ کرسکے۔ اس زمانے میں سائیکل تک نہیں تھی۔ لوگ بیل گاڑیوں، گھوڑوں پہ سفر اور جنگیں کرتے تھے۔ ان دو لاکھ لڑکوں کو بغیر کسی سواری کے لے جایا جارہا تھا کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں لڑکوں کے لیے سواری کا بندوبست ناممکن تھا۔ قارئین، مشکل موسمی حالات اور حفاظتی سامان کی غیر موجودگی میں یہ دو لاکھ لڑکے سردی سے ٹھٹھر کر جاں بحق ہوگئے اور جب یہ دو لاکھ لڑکے سردی کی وجہ سے اس پہاڑی سلسلے میں مارے گئے تو سلطان عادل طغلق کو بہت غصہ آیا کہ وہ اس حرام آمدنی سے محروم ہوگیا۔ اس نے اپنے افغان  فوجیوں کو بھی زندہ دفن کروا دیا جن کی وجہ سے سلطان عادل طغلق کو دو لاکھ غلام لڑکوں کی آمدنی سے محروم ہونا پڑا۔


قارئین، نہ جانے تاریخ کی کتابوں میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ پنجابی لڑکے تھے۔ جب یہ دو لاکھ خوبصورت اور حسین لڑکے ان پہاڑوں کے درمیان مر گئے تو اس پہاڑی سلسلے کو فارسی میں کوہِ ہندو کش کہا گیا یعنی وہ پہاڑ جس نے ہندوؤں کی جان لے لی۔ ہندوؤں سے مراد دریائے اٹک کے پار بھارت کی ساری آبادی۔ حالانکہ اس آبادی میں زیادہ تر تعداد مسلمانوں اور سکھوں کی تھی اس کے باوجود انہیں ہندوؤں کو مارنے والا پہاڑ کہا گیا۔ اس دور میں بھارت میں حکمرانوں کی زبان فارسی تھی۔ افغان طغلق بھارت پر حکمران تھے۔ قارئین، طغلق خاندان جب بھارت پر حکمرانی کررہا تھا تو اس دور میں مشہور سیاح ابنِ بطوطہ بھی بھارت آیا اور وہ 9 سال تک بھارت میں رہا۔ اس نے اپنی ایک  کتاب میں تفصیلی طور پر ذکر کیا ہے اس سارے واقعہ کا۔ اس طرح سے اس واقعہ کی پول کھلی۔ ورنہ تو یہ واقعہ دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتا۔ 

یہ کتاب مراکش سے شائع ہوئی لہذا بھارت اور پاکستان میں تاریخ کی اس کتاب پہ کسی کا کوئی کنٹرول نہ تھا کیونکہ یہ مراکش سے شائع ہوئی تھی۔ دراصل یہ دو لاکھ لڑکے سکھ اور مسلمان تھے۔ قارئین، ہوسکتا ہے اس دور میں پنجاب اور افغان کے درمیان کسی تنازع کو روکنے کے لیے پنجابی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا اور ہندوکش کہا گیا،تاکہ یہ واقعہ پنجاب اور افغان کے درمیان جنگ یا کسی محاذ آرائی کی وجہ نہ بن جائے۔ پنجاب کا لفظ اس لیے لکھا ہے کہ کہیں جنگ کی صورت میں اگر پنجاب کی عوام افغان طغلق حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور پورے ہندوستان میں فساد برپا ہوجاتا ہے تو افغان طغلق حکومت کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے۔ افغانستان کے شہریوں نے اپنی حکومت اور عزت بچانے کی خاطر پنجاب کا لفظ اس واقعہ میں نہیں آنے دیا۔ انہوں نے اسی لیے اس واقعہ کو کوہ ہندوکش کا نام دیا۔ اس فساد میں سکھ اور مسلمان ایک طرف ہوتے اور دوسری طرف افغان شہری۔


آج کے دَور میں اگر اتنی بڑی تعداد میں لڑکے بےدردی اور ظالمانہ طریقے سے مار دیئےجائیں جتنی بڑی تعداد میں جنگ کے لیے فوجیں میدانِ جنگ میں بھیجی جاتی ہیں  تو اس صورت حال میں ایک  بڑی جنگی جوابی کارروائی کا حق تو لازمی بنتا ہے۔ دو لاکھ لڑکوں کو اتنی آسانی سے اغواء کرکے مار ڈالنا کوئی آسان کام ہے؟؟؟ یہ دو لاکھ لڑکے ایک ہی پھیرے میں افغانستان لے جائے جارہے تھے۔اسی لیے ان کی موت بھی گنتی کے صرف چند دنوں میں ہوئی تھی۔ قارئین، شاید آپ کو یاد ہو کہ شاید یہ 2014-15ء کے وقتوں کی بات ہوگی کہ اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ افغانستان سے افغان فوجیوں نے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر کچھ شہریوں کو عورتوں بچوں سمیت فائرنگ کرکے جان سے مار دیا۔ اس کے بعد پاک فوج نے صرف چند دن کے وقفے سے جوابی فوجی کارروائی کی تھی۔ جس کے نتیجے میں 100 افغان فوجی ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔


 قارئین، آج بھی اس پہاڑی سلسلے کو اسی وجہ سے کوہِ ہندوکش کہا جاتا ہے یعنی ہندوؤں کو مارنے والا پہاڑ۔ یہ دو لاکھ پنجابی لڑکوں کو مارنے والا پہاڑ ہے اور تاریخ کی کتابوں میں اس بات کو نہ جانے کیوں چھپایا جاتا رہا ہے۔ یہ سننے میں آتا ہے کہ وہاں ان دو لاکھ لڑکوں کی آوازیں گونجتی اور ان کی روحیں بھٹکتی پھرتی ہیں کیونکہ انہیں تاحال انصاف نہیں مل سکا ہے۔

مالک و مرتب: کاشف فاروق۔








...

No comments:

Post a Comment